Helpline Welfare TrustVol. I · Community EditionWednesday, July 15, 2026
Helpline Welfare Trust
Mawakhat e Madina
Stories of impact, hope & community across Pakistan
وطن کی فکر کر ناداں! مصیبت آنے والی ہے
تری دہلیز پر صدقے سے باہر قیامت ہے
— علامہ محمد اقبال
1
آج کی سرخی
عالمی سطح پر غربت میں خطرناک اضافہ — پاکستان میں لاکھوں خاندان دوبارہ غربت کی لکیر سے نیچے۔ مائیں روٹی کے لیے ترستی ہیں، بچے سکول سے محروم ہیں، باپ رات بھر جاگ کر سوچتے ہیں کہ کل کیا کھلائے گا۔ ہر گھر میں ایک خاموش چیخ ہے جو کسی کو سنائی نہیں دیتی۔
2
موسمیاتی تبدیلی و گرمی کی لہریں
محکمہ موسمیات پاکستان اور عالمی ادارہ موسمیات (WMO) کی رپورٹس کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث پاکستان میں شدید گرمی کی لہریں معمول بن چکی ہیں۔ آج کل کئی شہروں میں درجہ حرارت غیر معمولی حد تک پہنچ رہا ہے — مزدور گھرانوں، بچوں اور بزرگوں کے لیے یہ ایک سنگین خطرہ ہے۔ غربت میں مزید اضافے کا ایک بڑا سبب بھی یہی موسمیاتی بحران ہے۔
ماخذ: محکمہ موسمیات پاکستان (PMD) · عالمی ادارہ موسمیات (WMO)
3
انسانی کہانی
ایک ماں نے کہا: 'میں اپنے بچوں کو سکول نہیں بھیج سکی، مگر ہیلپ لائن نے میرے بچے کو واپس کلاس میں بٹھا دیا۔' یہ صرف امداد نہیں — یہ امید کی دوبارہ جاگنا ہے، یہ وہ مسکراہٹ ہے جو ماں کے چہرے پر واپس آئی۔
4
آج کی بڑی خبر
اقوام متحدہ اور آکسفورڈ غربت و انسانی ترقی انیشی ایٹو کی عالمی غربت انڈیکس رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 47 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے — مگر ہیلپ لائن ویلفیئر ٹرسٹ ہر روز ہزاروں خاندانوں کو امید، تعلیم اور خودکفالی کی راہ دکھا رہا ہے۔ ہر عطیہ ایک بچے کی مسکراہٹ، ہر رضاکاری ایک خاندان کی امید بنتی ہے۔
آج جب معاشرہ غربت، ظلم، جہالت اور بے رحمی کے اندھیروں میں گھرا ہوا ہے — ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ نجات کا واحد راستہ اللہ کی اطاعت، رسول کی پیروی اور انسانیت کی خدمت ہے۔ قرآن مجید ہمیں سابقہ قوموں کی کہانی سناتا ہے جنہوں نے حق کو نظرانداز کیا — اور ان پر عذاب آیا۔ یہ آیات آج بھی ہمیں جاگنے کا پیغام دیتی ہیں۔
بیشک اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو پرہیزگار ہیں اور وہ لوگ جو نیکی کرتے ہیں۔
سورۃ النحل · آیت 128
بنی اسرائیل — قرآن میں نو آیات و عذاب
جب فرعون نے بنی اسرائیل کو ظلم و ستم کا شکار بنایا اور موسیٰ علیہ السلام کو جھٹلایا — تو اللہ تعالیٰ نے نو واضح آیات بھیجیں۔ قرآن فرماتا ہے: 'اور یقیناً ہم نے موسیٰ کو نو کھلی نشانیاں دیں۔' یہ عذاب اور نشانیاں آج بھی ہمیں سکھاتی ہیں کہ ظلم، تکبر اور حق کی نافرمانی کا انجام تباہی ہے۔
پس ہم ان پر چند سال کی قحط سالی کا عذاب بھیجیں گے۔
سورۃ الأعراف · آیت 130
4
ثمرات میں کمی
پھلوں اور فصلوں میں کمی آ گئی — تاکہ وہ سمجھیں کہ یہ سب اللہ کی طرف سے ہے، مگر ان کے دل سخت ہو گئے۔
وَنَقْصًا مِّنَ الثَّمَرَاتِ
اور پھلوں میں کمی۔
سورۃ الأعراف · آیت 130
5
طوفان — سیلاب
ان پر سیلاب بھیجا گیا — کھیت، گھر اور فصلیں تباہ ہوئیں۔ مگر فرعون اور اس کی قوم نے پھر بھی توبہ نہ کی۔
فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوفَانَ
پھر ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔
سورۃ الأعراف · آیت 133
6
جراد — ٹڈی دل
ٹڈی دلوں نے ان کی فصلیں چٹ کر دیں — سبزہ، درخت اور کھیت سب برباد۔ یہ عذاب آیا مگر انہوں نے حق کو نہ پہچانا۔
وَالْجَرَادَ
اور ٹڈی دل۔
سورۃ الأعراف · آیت 133
7
قمل — جوئیں
جوئیں پھیل گئیں — جسم، گھر اور لباس سب میں۔ عذاب ہر طرف تھا، مگر تکبر باقی رہا۔
وَالْقُمَّلَ
اور جوئیں۔
سورۃ الأعراف · آیت 133
8
ضفادع — مینڈک
مینڈک ہر جگہ — گھروں، باورچی خانوں اور بستروں میں۔ عذاب واضح تھا، مگر ان کے دل پتھر ہو چکے تھے۔
وَالضَّفَادِعَ
اور مینڈک۔
سورۃ الأعراف · آیت 133
9
خون — پانی میں خون
آخرکار ان کے پانی خون میں بدل گئے — نہ پی سکے، نہ وضو کر سکے۔ پھر بھی انہوں نے حق کو نہ مانا — یہی تکبر ان کے غرق ہونے کی وجہ بنا۔
وَالدَّمَ آيَاتٍ مُّفَصَّلَاتٍ
اور خون — کھلی کھلی نشانیاں۔
سورۃ الأعراف · آیت 133
تفصیلی تفسیر و گہرا سبق
قرآنِ حکیم میں بنی اسرائیل اور فرعون کی کہانی صرف ماضی کی ایک روایت نہیں — یہ ہر دور کے ظالم حکمرانوں، مظلوم عوام اور حق کی دعوت کو ٹھکرانے والوں کے لیے ایک کھلا سبق ہے۔ جب موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے دربار میں آ کر کہا: 'میرے رب نے مجھے بھیجا ہے' — تو فرعون نے نہ صرف انکار کیا، بلکہ بنی اسرائیل کو مزید ظلم و ستم کا شکار بنایا۔
اللہ تعالیٰ نے پہلے دو نشانیاں عطا فرمائیں — لاٹھی کا اژدہا بن جانا اور ہاتھ کا چمکنا۔ یہ نشانیاں ثابت کرتی تھیں کہ موسیٰ علیہ السلام اللہ کے بھیجے ہوئے رسول ہیں۔ مگر فرعون کے ساحروں نے بھی اپنی چال بازی کی — پھر بھی حق غالب آیا۔ یہ سبق سکھاتا ہے کہ حق کو جھٹلانے والے چاہے کتنی ہی طاقتور کیوں نہ ہوں — آخرکار حق کی فتح ہوتی ہے۔
جب فرعون نے پھر بھی نہ مانا تو اللہ نے اقتصادی عذاب بھیجے — قحط سالی اور پھلوں میں کمی۔ زمین خشک ہو گئی، فصلیں مر گئیں، لوگ بھوک سے تڑپنے لگے۔ آج بھی جب معاشرے میں غربت، مہنگائی اور قحط طاری ہو — یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ یہ سب اللہ کی قدرت ہے اور انسان کو عاجزی کی طرف بلاتا ہے۔
پھر پانچ مزید عذاب آئے — طوفان، ٹڈی دل، جوئیں، مینڈک اور خون۔ ہر عذاب ایک الگ درد تھا: سیلاب نے گھر تباہ کیے، ٹڈی دلوں نے فصلیں کھائی، جوئوں نے جسم کو اذیت دی، مینڈک ہر جگہ بھر گئے، اور آخر میں پانی خون میں بدل گیا — زندگی کی بنیادی ضرورت بھی چھین لی گئی۔ قرآن کہتا ہے: 'فَاسْتَكْبَرُوا وَكَانُوا قَوْمًا مُّجْرِمِينَ' — انہوں نے تکبر کیا اور وہ مجرم قوم تھے۔
ہر عذاب کے بعد فرعون نے وعدہ کیا کہ اگر عذاب ہٹایا جائے تو وہ ایمان لے آئے گا — مگر جب عذاب ہٹتا تو وہ پھر ٹیڑھا ہو جاتا۔ یہ وہی حالت ہے جو آج بھی بعض لوگوں میں ہے — مصیبت میں اللہ کو یاد کرتے ہیں، مگر راحت ملتے ہی بھول جاتے ہیں۔
آخرکار جب فرعون نے بنی اسرائیل کو راتوں رات مصر سے نکلنے نہ دیا — تو اللہ نے دریائے احمر کو شق فرمایا اور بنی اسرائیل کو نجات دی۔ مگر فرعون اور اس کی فوج غرق ہو گئی۔ یہ وہ انجام ہے جو ہر ظالم کا ہوتا ہے — چاہے وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔
بنی اسرائیل کی یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ مظلوموں کی فریاد اللہ تک پہنچتی ہے۔ جب بنی اسرائیل نے سینکڑوں برس ظلم برداشت کیا — تو اللہ نے ان کی مدد کی۔ آج جب لاکھوں پاکستانی خاندان غربت، بھوک اور محرومی میں ہیں — یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ان کی مدد کرنا ہمارا فرض ہے۔
ہیلپ لائن ویلفیئر ٹرسٹ اسی روح کے ساتھ کام کرتا ہے — جہاں بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات دی گئی، وہاں ہم آج محروم بچوں کو سکول بھیجتے ہیں، بھوکے خاندانوں کو راشن دیتے ہیں، اور مظلوموں کی مدد کرتے ہیں۔ یہی سیرتِ نبوی ﷺ اور قرآن کا عملی پیغام ہے۔
اہم اسباق:
1ظلم اور تکبر کا انجام ہمیشہ تباہی ہے — چاہے ظالم کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔
2اللہ مظلوموں کی فریاد سنتا ہے — ان کی مدد ضرور کرتا ہے۔
3عذاب اور مشکلات انسان کو اللہ کی طرف بلاتی ہیں — عبرت حاصل کرنی چاہیے۔
4وعدہ توڑنا اور حق کو جھٹلانا گناہِ کبیرہ ہے۔
5آج ہماری ذمہ داری ہے کہ محروموں، یتیموں اور غریبوں کی مدد کریں۔
پھر ہم نے ان پر طوفان، ٹڈی دل، جوئیں، مینڈک اور خون بھیجے — کھلی کھلی نشانیاں — مگر انہوں نے تکبر کیا اور وہ مجرم قوم تھے۔
سورۃ الأعراف · آیت 133
سابقہ قوموں پر عذاب کیسے آیا؟ — قرآن کی تنبیہ
قرآنِ حکیم میں جن قوموں نے حق کو ٹھکرایا، ظلم کو عام کیا، مسکینوں کو دبایا اور اللہ کے رسولوں کی بات نہ مانی — ان پر عذاب نازل ہوا۔ یہ کہانیاں تاریخ کی نہیں — یہ آج کے معاشرے کے لیے آئینہ ہیں۔
1
قومِ نوح ؑ
نوح علیہ السلام نے صدیوں تک اپنی قوم کو اللہ کی طرف بلایا — مگر انہوں نے سرکشی کی، غریبوں کو ستایا اور حق کو جھٹلایا۔ آخرکار طوفان آیا اور ظالم قوم غرق ہو گئی۔
پھر ہم نے آسمان کے دروازے موسلادار پانی سے کھول دیے۔
سورۃ القمر · آیت 11
2
قومِ عاد
عاد اپنی طاقت اور عمارتوں پر غرور کرتے تھے — مگر حق سے منحرف ہو گئے۔ ہُود علیہ السلام کی دعوت کو انہوں نے رد کیا۔ سخت ہوا چلی اور وہ اپنی گھمنڈی بستیوں کے ساتھ تباہ ہو گئے۔
اور عاد کو تو ایک زور آور طوفانی ہوا نے ہلاک کر دیا۔
سورۃ الحاقہ · آیت 6
3
قومِ ثمود
ثمود نے صالح علیہ السلام کی نشانی — اللہ کی اونٹنی — کو مار ڈالا اور حق سے پھر گئے۔ زمین کا جھٹکا آیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے مر گئے۔
فَأَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ
پس انہیں چیخ نے آ لیا۔
سورۃ ہود · آیت 67
4
قومِ فرعون
فرعون نے خود کو خدا کہا، بنی اسرائیل کو ظلم و ستم کا شکار بنایا — مگر موسیٰ علیہ السلام کی دعوت کو نہ مانا۔ آخرکار وہ اور اس کی فوج دریائے احمر میں غرق ہو گئی۔
اور اسی طرح تمہارے رب کی پکڑ ہوتی ہے جب وہ ظالم بستیوں کو پکڑتا ہے — بیشک اس کی پکڑ دردناک اور سخت ہے۔
سورۃ ہود · آیت 102
سیرتِ نبوی ﷺ — انسانیت کی آخری امید
رسول اللہ ﷺ کی آمد انسانیت کے لیے رحمت بن کر آئی۔ آپ ﷺ نے نہ صرف عبادت سکھائی — آپ ﷺ نے انسانیت کو عزت دی، یتیموں کو سہارا دیا، مسکینوں کو وقار بخشا، اور مواخاتِ مدینہ کے ذریعے اخوت کا وہ نمونہ قائم کیا جو آج بھی ہماری رہنمائی کرتا ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا: 'تم میں سے بہتر وہ ہے جو لوگوں کے لیے زیادہ نفع بخش ہو۔' یہی وہ سیرت ہے جس پر ہیلپ لائن ویلفیئر ٹرسٹ چل رہا ہے — محروموں کی مدد، بچوں کی تعلیم، بھوکوں کو کھانا، اور معاشرے کے کمزوروں کو اٹھانا۔
جب ہم سیرتِ نبوی ﷺ پر عمل کرتے ہیں تو ہم صرف اپنی نہیں — پوری انسانیت کی نجات کی راہ پر چلتے ہیں۔
یقیناً تمہارے لیے اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ ہے۔
سورۃ الاحزاب · آیت 21
آج جب لاکھوں خاندان غربت اور محرومی میں ہیں — ہمیں سیرتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں ان تک پہنچنا ہے۔ یہی نجات کا ذریعہ ہے — اللہ کی اطاعت، رسالت کی تعلیمات، اور انسانیت کی خدمت۔
اداریہ و خصوصی رپورٹ
اداریہ
رب کی اطاعت — رسالت کی تعلیمات، انسانیت کی خدمت
مواخاتِ مدینہ: اخوت کا وہ پیغام جو آج بھی ہماری ضرورت ہے
ہیلپ لائن ڈیلی نیوز · اداریہ
مواخاتِ مدینہ صرف تاریخ کی ایک صفحہ نہیں — یہ آج بھی ہر محروم خاندان کے لیے ایک زندہ پیغام ہے۔
رب کی اطاعت — رسالت کی تعلیمات، انسانیت کی خدمت
اللہ رب العزت نے انسانیت کی تعمیر، فلاح اور بقا کے لیے جو فطری اصول عطا فرمائے ہیں، اُن کی کامل اور بہترین عملی تصویر صرف تعلیمات نبوی ﷺ پر عمل کرنے سے ہی ممکن ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے معاشرے کو انسانیت، محبت اور اخوت کا حقیقی حسن عطا کرنے کے لیے مواخات مدینہ کی صورت میں ایک ایسا عظیم نظام قائم فرمایا، جس نے نہ صرف ابتدائی اسلامی معاشرے کو استحکام بخشا بلکہ قیامت تک آنے والی انسانیت کے لیے ایثار، قربانی، بھائی چارے اور باہمی تعاون کی لازوال مثال قائم کر دی۔
مواخات مدینہ دراصل انصار اور مہاجرین کے درمیان ایسا روحانی اور سماجی معاہدہ تھا، جس کی بنیاد محبت، ایثار اور قربانی پر رکھی گئی۔ انصار مدینہ نے اپنے مہاجر بھائیوں کو صرف پناہ ہی نہیں دی بلکہ اپنے گھر، مال، وسائل اور زندگی کی آسائشیں بھی ان کے ساتھ خوش دلی سے تقسیم کر دیں۔ یہ بے مثال جذبہ محبت اور اخوت بنیان مرصوص کی عملی تفسیر بن گیا۔
آج بھی جب ہم رانا ٹاؤن کے مزدور گھروں میں جاتے ہیں تو وہاں بچوں کی آنکھوں میں خواب دیکھتے ہیں — سکول جانے کا خواب، کتاب پڑھنے کا خواب، ایک روشن مستقبل کا خواب۔ یہ خواب ہیلپ لائن ویلفیئر ٹرسٹ کے ذریعے حقیقت بن رہے ہیں۔
ہیلپ لائن ویلفیئر ٹرسٹ اسی روح کے ساتھ کام کرتا ہے — محض امداد نہیں، بلکہ مستقل تبدیلی۔ رانا ٹاؤن میں قائم الکتاب اسکول اسی وژن کا عملی مظہر ہے، جہاں آج سینکڑوں بچے مفت، معیاری اور باوقار تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
1
ایک یتیم بچے نے لکھا: 'جب میرے والد فوت ہوئے تو مجھے لگا دنیا ختم ہو گئی۔ مگر ہیلپ لائن نے مجھے سکول بھیجا — آج میں جانتا ہوں کہ زندگی ابھی ختم نہیں ہوئی۔'
2
ایک معذور بچے کی ماں نے کہا: 'میرا بیٹا پہلے گھر میں بند رہتا تھا۔ آج وہ سکول جاتا ہے اور مسکراتا ہے — یہ مسکراہٹ میری ساری تکلیفیں بھلا دیتی ہے۔'
3
ایک بزرگ نے کہا: 'میں نے اپنی عمر میں بہت دکھ دیکھے، مگر جب میرے پوتے کو یونیفارم ملی تو میں رویا — خوشی کے آنسو تھے۔'
علاقے کی زمینی حقیقت یہ ہے کہ اکثریت مزدور طبقے سے تعلق رکھتی ہے۔ بڑے خاندان، ایک کمانے والا، آٹھ سے دس افراد کا خرچ — ان حالات میں تعلیم جیسی بنیادی ضرورت بھی ایک خواب بن جاتی ہے۔ مگر ہم یہ خواب ہر بچے کے لیے حقیقت بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
ایک بچے نے کہا: 'جب مجھے یونیفارم ملی تو میں نے سوچا شاید یہ خواب ہے۔ مگر یہ خواب نہیں تھا — یہ حقیقت تھی۔ آج میں پڑھتا ہوں، مسکراتا ہوں، اور اپنے والدین کو فخر محسوس کراتا ہوں۔' یہ صرف ایک بچے کی کہانی نہیں — یہ ہزاروں بچوں کی کہانی ہے۔
مواخاتِ مدینہ کا پیغام آج بھی زندہ ہے: جب ہم ایک دوسرے کے دکھ بانٹتے ہیں تو معاشرہ مضبوط ہوتا ہے۔ ہیلپ لائن ویلفیئر ٹرسٹ اسی اخوت کے جذبے کے ساتھ رانا ٹاؤن کے ہر محروم گھر تک پہنچ رہا ہے۔
Page 2
خصوصی تحقیقی رپورٹ
چپکی ہوئی سوچ کے ہاتھوں شکست — غربت بڑھ رہی ہے، عوام سسک رہی ہے
پاکستان اور دنیا بھر میں غربت کی شرح میں خطرناک اضافہ — اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟
ہیلپ لائن ڈیلی نیوز · معاشی رپورٹر
غربت کی پیمائش صرف اعداد میں نہیں — یہ ماں کی آنکھوں میں آنسو، بچے کے خالی پیٹ اور باپ کے جھکے ہوئے کندھوں میں چھپی ہوتی ہے۔
ہیلپ لائن ویلفیئر ٹرسٹ کے فلاحی پروگرامز
کچھ بیانات ایسے ہوتے ہیں جو دماغ کے ساتھ چمٹ جاتے ہیں — نہ اس لیے کہ وہ سچ ہوں، بلکہ اس لیے کہ وہ حقیقت کے منہ پر طنز بن کر آتے ہیں۔ حالیہ اقتصادی سروے رپورٹ کے مطابق پاکستان کے شہری علاقوں میں غربت 11 سے بڑھ کر 17.4 فیصد اور دیہی علاقوں میں 28.2 سے بڑھ کر 36.2 فیصد ہو چکی ہے۔ ایک سال کے دوران مزید آٹھ لاکھ شہری بیرونِ ملک چلے گئے — یہ صرف اعداد نہیں، یہ ٹوٹتے ہوئے خوابوں کی کہانیاں ہیں۔
اقوام متحدہ اور آکسفورڈ پاورٹی اینڈ ہیومن ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو کی غربت انڈیکس رپورٹ کے مطابق دنیا میں ایک ارب دس کروڑ افراد غربت کا شکار ہیں۔ پاکستان میں 47 فیصد افراد خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ عالمی بینک کے نئے معیارات کے مطابق تقریباً 10 کروڑ 80 لاکھ پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے ہیں۔
گلوبل ہنگر انڈیکس 2025ء میں پاکستان کا درجہ تشویشناک قرار دیا گیا — 123 ممالک میں 106ویں نمبر۔ پانچ سال سے کم عمر بچوں میں غذائی قلت انتہائی تشویشناک حد تک ہے۔ یہ صرف اعداد نہیں — یہ وہ بچے ہیں جو روزانہ بھوکے سوتے ہیں، وہ مائیں ہیں جو دوپہر کی روٹی کے لیے روتی ہیں۔
حکمران کہتے ہیں جو شخص ماہانہ 8483 روپے کماتا ہے وہ غریب نہیں — مگر حقیقت یہ ہے کہ نو ہزار روپے میں تین چار افراد کا گھرانہ گزارہ کرنا ناممکن ہے۔ سادہ روٹی بیس روپے، نان تیس روپے — ایک مزدور اگر بارہ سو روپے کی دیہاڑی لگاتا ہے تو دوپہر کا کھانا ہی ڈھائی سو روپے میں آ جاتا ہے۔ باقی کیا پہنے گا؟ بچوں کو سکول کیسے بھیجے گا؟
عوام بہت زیادہ تکلیف میں ہیں۔ آج کے زمانے میں نو ہزار روپے تو کیا نوے ہزار روپے میں بھی گزارہ کرنا مشکل ہے۔ عوام کو طفل تسلیاں نہ دیں — انہیں جینے کا حق دیں۔
1
ایک بچی نے کہا: 'میں پہلے کبھی سکول نہیں گئی۔ آج میں کلاس میں بیٹھی ہوں اور خواب دیکھتی ہوں — یہ سب ہیلپ لائن کی وجہ سے ممکن ہوا۔'
2
ایک ماں نے بتایا: 'میں روز کام پر جاتی تھی اور سوچتی تھی کہ میرا بچہ گلی میں کھیل رہا ہے، سکول نہیں جا رہا۔ آج وہ سکول جاتا ہے — یہ میری زندگی کی سب سے بڑی خوشی ہے۔'
3
ایک مزدور نے کہا: 'میں دن بھر مزدوری کرتا ہوں، مگر رات کو جب بچے بھوکے سوتے ہیں تو دل ٹوٹ جاتا ہے۔ ہیلپ لائن نے میرے گھر میں روٹی کی خوشبو واپس لائی۔'
رانا ٹاؤن کی ایک ماں نے بتایا: 'میں رات بھر روتی رہتی تھی کہ کل بچوں کو کیا کھلاؤں گی۔ پھر ہیلپ لائن نے میرے بچوں کو سکول میں داخل کرایا، کتب اور یونیفارم دی — آج میری آنکھوں میں آنسو نہیں، مسکراہٹ ہے۔' یہ ایک ماں کی کہانی نہیں — یہ لاکھوں ماؤں کی کہانی ہے۔
ایک باپ نے کہا: 'میں مزدوری کرتا ہوں، مگر اتنا نہیں کہ بچوں کو سکول بھیج سکوں۔ جب ہیلپ لائن نے میرے بچے کا خرچ اٹھایا تو میں نے پہلی بار اپنے بچے کو یونیفارم میں دیکھا — وہ مسکرا رہا تھا۔ وہ مسکراہٹ آج بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے۔'
غربت وہ چوٹ ہے جو نظر نہیں آتی — مگر دل پر لگتی ہے۔ ایک ماں جب اپنے بچے کو بھوکا سوتے دیکھتی ہے تو اس کا دل ٹوٹ جاتا ہے۔ ہیلپ لائن اسی دل کو جوڑنے کے لیے کام کرتا ہے۔
رات کے دو بجے ایک باپ نے فون کیا: 'میرے بچے کو بخار ہے، دوا نہیں ہے۔' ہم نے مدد کی — اگلے دن وہ باپ رو رہا تھا، مگر یہ آنسو شکرگزاری کے تھے۔
Page 3
خصوصی رپورٹ جاری ہے
عالمی منظرنامہ
دنیا بھر میں غربت کا بڑھتا سایہ — پاکستان کہاں کھڑا ہے؟
بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس میں تشویشناک تصویر
ہیلپ لائن ڈیلی نیوز · عالمی ڈیسک
جب ایک قوم اپنے کمزوروں کو بھول جائے تو وہ قوم اپنی روح کھو دیتی ہے۔
الکتاب مسجد — کردار سازی کا مرکز
عالمی سطح پر غربت میں خطرناک اضافہ ہوا ہے۔ ایتھوپیا، نائیجیریا اور جمہوریہ کانگو کے بعد پاکستان وہ ملک ہے جہاں سب سے زیادہ افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ وہ حقیقت ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
ڈبلیو ایف پی اور دیگر عالمی اداروں کی رپورٹس میں پاکستان میں غذائی عدم تحفظ کے سنگین خطرات کی نشاندہی کی گئی ہے — جہاں ایک بڑی آبادی اپنی بنیادی غذائی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے۔ مہنگائی اور معاشی دباؤ کے باعث لاکھوں افراد دوبارہ غربت کی طرف دھکیل دیے گئے ہیں۔
غربت کی پیمائش کا معیار کم از کم ضروری اخراجات پورے کرنے کی صلاحیت ہے۔ کیا آٹھ نو ہزار روپے میں گھرانے کا بجٹ بنانا ممکن ہے؟ آٹا ایک سو تیس روپے کلو — دو وقت کی روٹیاں بھی کھائیں تو سبزی، دودھ، علاج، سکول فیس — سب کہاں سے آئے گا؟
یہ وہ سوال ہے جو ہر محروم گھرانے کے سامنے روز کھڑا ہوتا ہے — اور یہ وہ سوال ہے جس کا جواب ہیلپ لائن ویلفیئر ٹرسٹ روزانہ عملی طور پر دے رہا ہے۔
1
ایک ماں نے کہا: 'میرے بچے نے تین دن سے کھانا نہیں کھایا تھا۔ جب ہیلپ لائن نے راشن دیا تو بچے نے پہلی نوالہ کھاتے ہی رو دیا — یہ آنسو اب بھی میری آنکھوں میں ہیں۔'
2
ایک باپ نے بتایا: 'میں نے اپنے بچے کو کبھی یونیفارم میں نہیں دیکھا تھا۔ جب پہلی بار دیکھا تو دل بھر آیا — میرا بچہ اتنا خوبصورت لگ رہا تھا۔'
رانا ٹاؤن کے ایک بزرگ نے کہا: 'میں نے اپنی زندگی میں بہت مشکلیں دیکھیں، مگر جب ہیلپ لائن نے میرے پوتے کو سکول بھیجا تو میں نے پہلی بار یہ محسوس کیا کہ کوئی ہمیں بھول نہیں گیا۔' یہی وہ جذبہ ہے جو مواخاتِ مدینہ کی روح کو زندہ رکھتا ہے۔
دنیا بھر میں لاکھوں بچے سکول سے محروم ہیں — پاکستان میں یہ تعداد لاکھوں میں ہے۔ مگر ہر وہ بچہ جسے ہم سکول بھیجتے ہیں، ایک روشن مستقبل کی طرف قدم بڑھاتا ہے۔
ایک نوجوان نے کہا: 'میں نے سوچا تھا کہ میری زندگی یہیں ختم ہو جائے گی — مگر تعلیم نے مجھے نئی راہ دکھائی۔ آج میں اپنے خاندان کا سہارا بن رہا ہوں۔'
Page 4
ہیلپ لائن کی کہانی
معاشرے کے اندر محرومی کی طرف توجہ — ہیلپ لائن کا مشن
جب ایک بچہ پڑھتا ہے، ایک خاندان کھڑا ہوتا ہے، پورا معاشرہ بدلتا ہے
ہیلپ لائن ڈیلی نیوز · خصوصی رپورٹ
جب ایک بچہ پڑھتا ہے تو صرف وہی نہیں بدلتا — پورا خاندان، پورا معاشرہ بدلتا ہے۔
مسجد مرکز برائے کردار سازی
کسی بھی معاشرے کی اصل ترقی کا اندازہ بلند عمارتوں اور سڑکوں سے نہیں بلکہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ کمزور، محروم اور ضرورت مند طبقات کے ساتھ کیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ جہاں بچے تعلیم سے محروم ہوں، خاندان علاج کی سہولت نہ رکھتے ہوں، نوجوان روزگار سے دور ہوں — وہاں ترقی کا سفر ادھورا رہ جاتا ہے۔
ہیلپ لائن ویلفیئر ٹرسٹ کا بنیادی مقصد معاشرے کے انہی محروم طبقات کی طرف توجہ دلانا اور ان کی عملی مدد کرنا ہے۔ غربت، جہالت، بے روزگاری، بیماری اور معاشرتی عدم مساوات ایسے مسائل ہیں جو نسل در نسل خاندانوں کو آگے بڑھنے سے روک دیتے ہیں۔
الکتاب سکول اور اس سے وابستہ فلاحی منصوبے ایسے بچوں اور خاندانوں کے لیے امید کی کرن ہیں جو وسائل نہ ہونے کے باعث تعلیم، صحت، خوراک اور بہتر مستقبل سے محروم تھے۔ مستحق بچوں کو مفت تعلیم، کتب، یونیفارم، صحت کی سہولیات، راشن، صاف پانی اور تربیتی ماحول فراہم کر کے انہیں محرومی کے اندھیروں سے نکالا جا رہا ہے۔
معاشرے کے محروم افراد کو صرف امداد دینا کافی نہیں — انہیں خودکفالت کے قابل بنانا اصل خدمت ہے۔
ایک طالبہ نے لکھا: 'میں پہلے گلی میں کھیلتی تھی، آج میں کلاس میں بیٹھی ہوں اور خواب دیکھتی ہوں کہ ڈاکٹر بنوں گی۔' یہ صرف تعلیم نہیں — یہ زندگی بدلنے کی طاقت ہے۔
1
ایک طالبہ نے لکھا: 'میں پہلے گلی میں کھیلتی تھی، آج میں کلاس میں بیٹھی ہوں اور خواب دیکھتی ہوں کہ ڈاکٹر بنوں گی — یہ خواب ہیلپ لائن نے دیا۔'
2
ایک یتیم لڑکے نے کہا: 'جب میرے والد نہیں رہے تو مجھے لگا میں اکیلا ہوں۔ مگر سکول کے استادوں نے مجھے باپ کا پیار دیا۔'
3
ایک ماں نے بتایا: 'میری بیٹی پہلے کبھی کتاب نہیں چھوتی تھی — آج وہ روز نئی کہانیاں پڑھ کر سناتی ہے۔ یہ میری زندگی کی سب سے بڑی خوشی ہے۔'
ایک معذور بچے کی ماں نے کہا: 'میرا بیٹا پہلے گھر میں بند رہتا تھا، آج وہ سکول جاتا ہے اور مسکراتا ہے۔ ہیلپ لائن نے میرے بچے کو دنیا دکھائی۔'
تعلیم وہ شمع ہے جو اندھیرے میں روشنی دیتی ہے۔ جہاں بچے پڑھتے ہیں وہاں معاشرہ خود بخود بہتر ہوتا ہے — یہ ہیلپ لائن کا یقین ہے۔
ایک استاد نے کہا: 'جب میں کلاس میں ان بچوں کو دیکھتا ہوں جو پہلے کبھی سکول نہیں آئے تھے — ان کی آنکھوں میں وہ چمک دیکھتا ہوں جو کسی دولت سے نہیں خریدی جا سکتی۔'
Page 5
خصوصی رپورٹ جاری ہے
عملی اقدامات
ہیلپ لائن کیسے غربت کم کر رہی ہے — میدان سے رپورٹ
تعلیم سے لے کر خودکفالی تک — ایک مکمل فلاحی ماڈل
ہیلپ لائن ڈیلی نیوز · میدانی رپورٹر
ہیلپ لائن صرف امداد نہیں دیتا — یہ انسانوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرتا ہے۔
الکتاب ہائر سیکنڈری سکول
تعلیم عام پروگرام: سکول سے باہر بچوں کی شناخت کر کے انہیں مفت معیاری تعلیم، کتب، یونیفارم اور پک اینڈ ڈراپ سہولت فراہم کی جاتی ہے تاکہ والدین کے مالی بوجھ میں کمی آئے۔
خواتین کی ووکیشنل ٹریننگ: سلائی، کڑھائی اور دیگر ہنر سکھا کر خواتین کو گھر بیٹھے روزگار حاصل کرنے کے قابل بنایا جاتا ہے۔
خودکفالت پروگرام: بلا سود قرضے، مرغبانی، کچن گارڈننگ، بکری پالنے اور سستا راشن — تاکہ خاندان مستقل بنیادوں پر اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں۔
صاف پانی: سولر پاورڈ واٹر فلٹریشن پلانٹس اور ہینڈ پمپس — تاکہ پانی سے پیدا ہونے والی بیماریاں روکی جا سکیں۔
بنیادی ضروریات: سستا ترین راشن، یوٹیلیٹی اسٹور، مفت کھانا اور بہترین لباس کی سہولت — تاکہ کوئی خاندان بھوک سے پریشان نہ ہو۔
طبی معاونت: غریب مریضوں کو سرکاری ہسپتالوں میں داخلہ اور ضروری رہنمائی فراہم کی جاتی ہے۔
1
ایک ماں نے کہا: 'جب میں نے سلائی سیکھی اور پہلی کمائی کی تو میں نے اپنے بچوں کو نئے کپڑے خریدے — وہ دن آج بھی یاد ہے۔'
2
ایک باپ نے بتایا: 'مرغبانی سیکھ کر میں نے پہلی بار اپنے بچوں کو اچھی خوراک کھلائی — وہ مسکراہٹ اب بھی یاد ہے۔'
3
ایک بچے نے کہا: 'پہلی بار صاف پانی پیا تو لگا یہ کتنا میٹھا ہے — پہلے تو بیماری ہی بیماری تھی۔'
رمضان راشن، قربانی گوشت کی تقسیم اور حکومت کی فلاحی اسکیموں کے بارے میں آگاہی — یہ سب ہیلپ لائن کی مسلسل کوششیں ہیں۔
ہر پروگرام کے پیچھے ایک انسانی کہانی ہے — ایک ماں جو سلائی سیکھ کر گھر چلاتی ہے، ایک باپ جو مرغبانی سے روزی کمانا شروع کرتا ہے، ایک بچہ جو پہلی بار صاف پانی پیتا ہے۔ یہ اعداد نہیں — یہ زندگیاں ہیں۔
ایک خاتون نے سلائی سیکھی اور پہلی کمائی سے اپنے بچوں کو کپڑے خریدے — وہ روتی تھی، مگر یہ خوشی کے آنسو تھے۔ آج وہ خودکفیل ہے اور دوسروں کو بھی سکھاتی ہے۔
رمضان میں جب راشن تقسیم ہوتا ہے تو ہر تھیلے کے ساتھ ایک دعا بھی جاتی ہے — اللہ کرے آپ کا گھرانہ ہمیشہ خوش رہے۔ یہ صرف راشن نہیں — یہ محبت ہے۔
3.7M+زندگیاں متاثر
274+سکول کھولے گئے
7,205طلبہ داخل
98%صاف پانی تک رسائی
الکتاب تعلیمی نظام اور کردار سازی پراجیکٹ
الکتاب تعلیمی نظام — یہاں ہر بچہ صرف کتاب نہیں پڑھتا، وہ اپنے مستقبل کی بنیاد رکھتا ہے۔
سماجی و آبادیاتی فلاحی رپورٹ 2026
سماجی فلاحی رپورٹ — ہر عدد کے پیچھے ایک انسانی کہانی، ایک ماں کی دعا، ایک بچے کا خواب۔
Page 6
آخری صفحہ
جب تک آپ کے ہاتھ سے خیر تقسیم ہوتی رہے — آپ پر زوال نہیں آ سکتا
خیر بانٹنے والا انسان کبھی حقیقی معنوں میں محروم نہیں ہوتا
ہیلپ لائن ڈیلی نیوز · خصوصی مضمون
جب تک آپ کے ہاتھ سے خیر تقسیم ہوتی رہے — آپ پر زوال نہیں آ سکتا۔
مواخات ٹاؤن، رانا ٹاؤن — فیلڈ میپ
خیر صرف مال و دولت خرچ کرنے کا نام نہیں — ہر وہ عمل خیر ہے جس سے کسی انسان کی زندگی میں آسانی، خوشی اور امید پیدا ہو۔ علم بانٹنا، شعور بیدار کرنا، کسی دکھی دل کو دلاسہ دینا، یتیم کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھنا، بھوکے کو کھانا کھلانا — یہ سب خیر کی بہترین صورتیں ہیں۔
جو شخص دوسروں کے لیے خیر کا ذریعہ بنتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے خیر کے دروازے کھول دیتا ہے۔ جو لوگوں کے دکھ بانٹتا ہے، اللہ اس کے غم دور فرما دیتا ہے۔
ہیلپ لائن ویلفیئر ٹرسٹ اسی جذبے کے ساتھ کام کرتا ہے — مواخاتِ مدینہ کے پیغام کو زندہ کرتے ہوئے۔ معاشرے کے اندر محرومی کی طرف توجہ دینا دراصل انسانیت، اخوت اور باہمی تعاون کا عملی مظہر ہے۔
جب ایک بچہ تعلیم حاصل کرتا ہے، ایک خاندان خودکفیل بنتا ہے، ایک ماں ہنر سیکھتی ہے، ایک نوجوان روزگار حاصل کرتا ہے اور ایک بیمار کو علاج ملتا ہے — تو صرف ایک فرد نہیں، پورا معاشرہ بہتر ہوتا ہے۔
یہ صرف فلاح نہیں — یہ نسلوں کی تقدیر بدلنے کی ایک مسلسل جدوجہد ہے۔ آئیں، آپ بھی اس جدوجہد کا حصہ بنیں۔
1
ایک عطیہ دہندہ نے لکھا: 'جب میں نے پہلی بار عطیہ کیا تو مجھے لگا یہ بہت کم ہے — مگر پھر مجھے پتہ چلا کہ اس سے ایک بچے کا پورا سال کا سکول خرچہ نکل آیا۔'
2
ایک رضاکار نے کہا: 'میں ہر ہفتے سکول جاتا ہوں — بچوں کی مسکراہٹ میرے پورے ہفتے کی تھکان مٹا دیتی ہے۔'
3
ایک معذور بچے کی ماں نے کہا: 'جب میرے بیٹے کو ویل چیئر ملی تو وہ پہلی بار باہر گیا — اس کی خوشی دیکھ کر میں رو دی۔'
ایک رضاکار نے کہا: 'جب میں نے پہلی بار رانا ٹاؤن میں بچوں کو یونیفارم میں دیکھا تو میری آنکھوں میں آنسو آ گئے — یہ وہی جذبہ تھا جو مواخاتِ مدینہ میں تھا۔' ہر عطیہ، ہر رضاکاری، ہر دعا — یہ سب مل کر ایک روشن مستقبل بناتے ہیں۔
خیر بانٹنا وہ عمل ہے جو دل کو سکون دیتا ہے۔ جب آپ کسی بھوکے کو کھانا کھلاتے ہیں، کسی بچے کو سکول بھیجتے ہیں، کسی ماں کے آنسو پونچھتے ہیں — تو آپ صرف دوسروں کی نہیں، اپنی بھی زندگی بہتر بناتے ہیں۔
آئیں، آج ہی ایک قدم اٹھائیں — عطیہ کریں، رضاکار بنیں، یا صرف دعا کریں۔ ہر عمل شمار ہوتا ہے، ہر محبت اثر رکھتی ہے۔
جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا — اللہ تعالیٰ آپ کو بہترین جزا عطا فرمائے۔
یونین کونسل 23 — گاؤں کی تعلیمی تفصیل
یونین کونسل 23 — ہر گاؤں میں بچے ہیں جو سکول جانے کے منتظر ہیں۔
ماخذ: اقتصادی سروے 2024-25 · روزنامہ دنیا · شاہد صدیقی
1. بنیادی سہولیات — اسکولوں میں دستیابی
تفصیل
اعداد و شمار
کمی — کتنی تعداد کم ہوئی
بجلی (تمام سرکاری اسکول)
65 فیصد
35 فیصد اسکول بغیر بجلی
بجلی (پرائمری اسکول)
59 فیصد
41 فیصد پرائمری بغیر بجلی
صاف پینے کا پانی
76 فیصد
24 فیصد اسکول بغیر پانی
بیت الخلا / سنگل
77 فیصد
23 فیصد اسکول بغیر سنگل
باؤنڈری وال / چار دیواری
75 فیصد
25 فیصد اسکول بغیر دیوار
2. اسکولوں کی تعداد میں کمی (2020-21 سے 2024-25)
تفصیل
اعداد و شمار
کمی — کتنی تعداد کم ہوئی
پرائمری اسکول
180,217 سے 154,964
25,253 اسکول کم
مڈل اسکول
47,182 سے 43,931
3,251 اسکول کم
ثانوی اسکول
2,756 سے 2,683
73 اسکول کم
3. بچے اور تعلیم سے محرومی
تفصیل
اعداد و شمار
کمی — کتنی تعداد کم ہوئی
سکول نہ جانے والے بچے
4 کروڑ+
4 کروڑ+ تعلیم سے محروم
مزدوری اور کمائی کے لیے کام کرنے والے بچے
4 کروڑ میں سے لاکھوں
لاکھوں بچے مزدوری میں
ہر سال سکول کی ضرورت والے نئے بچے
لاکھوں
لاکھوں بچے سکول سے باہر
4. دیگر اہم مسائل
تفصیل
اعداد و شمار
کمی — کتنی تعداد کم ہوئی
تعلیم پر حکومتی خرچ (جی ڈی پی)
0.8 فیصد سے بھی کم
تاریخ کی کم ترین سطح — مزید کمی
ہجوم والی کلاسیں اور استادوں کی کمی
بڑھتی ہوئی طلباء-استاد تناسب
تعلیم کا معیار کم
محفوظ عمارت اور مناسب کلاس روم
ہزاروں اسکول محروم
ہزاروں اسکول بغیر محفوظ عمارت
بلوچستان و محروم اضلاع
بنیادی سہولیات نہ ہونے کے برابر
تقریباً مکمل فقدان سہولیات
بجٹ ترجیحات
ڈینش اسکول و لیپ ٹاپ سکیم
عام اسکولوں کی بجٹ میں کمی
غربت، جہالت، جرائم، دہشت گردی سے نجات کا جہاد
مسائل کا عملی حل
حل
تعلیم عام پروگرام، بنیادی حقوق سب کے لیے سب کے ساتھ
تعلیمی بحران کا عملی حل — ہمارے علاقوں میں
ہیلپ لائن ویلفیئر ٹرسٹ
جب سرکاری بجٹ اسکول بند کرتا ہے یا بنیادی سہولت نہیں دیتا — ہم رانا ٹاؤن، یونین کونسل 23 اور ہمسایہ محروم آبادیوں میں جاکر سیدھا کام کرتے ہیں۔ وہاں کی مائیں ہمیں رو کر کہتی ہیں: 'صاحب! میرا بچہ پڑھنا چاہتا ہے، مگر فیس نہیں دے سکتے۔' ہم ان کے آنسو صاف کرتے ہیں اور کہتے ہیں: آؤ، تمہارا بچہ ہمارا بچہ ہے۔ الکتاب ہائر سیکنڈری سکول میں مستحق بچوں کو مفت تعلیم، کتابیں، یونیفارم اور کردار سازی کا ماحول ملتا ہے۔ کوئی بچہ فیس کے خوف سے محروم نہیں رہتا۔
جس کالم میں بجلی، پانی اور محفوظ عمارت کی کمی بتائی گئی — وہیں ہم سکول میں صاف پانی، روشنی، صحت اور تربیت کے انتظامات کرتے ہیں۔ ایک باپ نے کہا: 'پہلے میرا بیٹا اندھیرے میں پڑھتا تھا، آج روشنی میں بیٹھتا ہے۔' والدین کو راشن، ووکیشنل تربیت اور خودکفالی کے منصوبوں سے جوڑتے ہیں تاکہ صرف ایک دن کی امداد نہیں، مستقل امید ملے۔
ہمارے پاس حکومت کے 13 ایسے اسکول ہیں جنہیں ہم نے اپنا لیا ہے — سرکار نے بند کر دیے تھے، لیکن ہم نے ان کے دروازے دوبارہ کھول دیے۔ ٹوٹی چھتیں، خالی کلاسیں، بے روشنی کے کمرے — یہ وہ منظر تھا جو ہم نے اپنے آنکھوں سے دیکھا۔ ایک استاد رو کر کہتا تھا: 'میں پڑھانا چاہتا ہوں، مگر سکول ہی نہیں۔' آج وہی اسکولوں میں بچے پڑھ رہے ہیں، استاد وقار سے کھڑے ہیں، اور ماؤں کی آنکھوں میں آنسو نہیں — بلکہ شکرگزاری ہے۔
ان کے علاوہ ہمارے اپنے 8 اسکول ہیں — جہاں ہر بچہ ہمارا ہے، ہر کمرہ ہماری ذمہ داری ہے۔ یہ صرف اینٹ اور پتھر نہیں — یہ وہ ماتھے ہیں جہاں مزدور کے بچے کا مستقبل لکھا جاتا ہے، جہاں یتیم لڑکی پہلی بار سکول بیگ اٹھاتی ہے، جہاں بھوکا بچہ پہلے دن مفت کھانا کھا کر مسکراتا ہے۔ جب وہ مسکراہٹ دیکھتے ہیں — سمجھ آ جاتا ہے کہ یہ کام صرف تعلیم نہیں، یہ انسانیت کی بحالی ہے۔
ہم نے یہ اسکول اس لیے نہیں کھولے کہ اعداد و شمار بڑھائیں — بلکہ اس لیے کہ کوئی ماں رات کو رو کر نہ سوچے: میرا بچہ پڑھ نہیں سکتا۔ کوئی باپ اپنی بیٹی کی شادی کے لیے قرض نہ لے۔ کوئی بچہ کچرے کے ڈھیر پر کھیل کر اپنی زندگی ضائع نہ کرے۔ ہر صبح جب 21 اسکولوں میں بیل بجتی ہے — یہ صرف کلاس نہیں کھلتی، ایک مایوس محلے میں امید جلتی ہے۔
رانا ٹاؤن کے مزدور، یتیم، بیوہ اور محروم گھرانے ہمارے لیے صرف اعداد نہیں — یہ ہمارے اپنے لوگ ہیں۔ ہم ان کے دروازے پر دستک دیتے ہیں، ان کے بچوں کا ہاتھ پکڑ کر سکول لے جاتے ہیں، ان کی ماؤں کو سلائی، کڑھائی اور ہنر سکھاتے ہیں تاکہ وہ اپنے بچوں کے سامنے سر اٹھا کر کھڑی ہوں۔
میاں اخلاق الرحمن کے ویژن کے مطابق مواخاتِ مدینہ کا مطلب ہے: مبتلا طبقے تک خود پہنچنا۔ سرکاری ترجیحات جہاں کمزور پڑیں، ہماری ذمہ داری وہاں شروع ہوتی ہے — ہر گلی میں ایک بچہ سکول، ایک ماں ہنر مند، ایک گھر وقار کے ساتھ۔ یہ صرف باتیں نہیں — یہ عملی حل ہے: جہاں ریاست کم پڑے، ہم وہاں کھڑے ہوں گے۔
مستحق بچے — مفت تعلیم
سکول میں روشنی اور امید
بند اسکول — دوبارہ کھلے دروازے
ہمارے اسکول — ہمارے بچے
یتیم بچے — سکول کا راستہ
تعلیم کے ساتھ کردار سازی
محروم بچے — ہیلپ لائن ویلفیئر ٹرسٹ
تعلیم کا حق — ہر بچے کے لیے
سکول میں واپسی — امید کی راہ
الکتاب اسکول — ہمارے بچے
مفت تعلیم و تربیت
یتیم اور مستحق بچے
رانا ٹاؤن — تعلیمی سرگرمیاں
مواخاتِ مدینہ — بچوں کی خدمت
ہیلپ لائن ویلفیئر ٹرسٹ — عملی کام
مواخات ٹاؤن، رانا ٹاؤن — فیلڈ میپ
سماجی، آبادیاتی اور فلاحی تخمینی رپورٹ 2026
ہمارے علاقوں میں عملی اقدامات
13 سرکاری اپنائے ہوئے اسکول
حکومت نے بند کر دیے تھے — ہم نے اپنا لیے۔ ٹوٹی چھتیں مرمت کیں، بجلی جلائی، پانی لگایا، استاد واپس بلائے۔ جب پہلا بچہ واپس آیا تو پوری گلی باہر نکل آئی۔ آج ہزاروں بچے پڑھ رہے ہیں — یہ صرف اسکول نہیں، محروم محلوں کی دوبارہ زندگی ہے۔
8 اپنے اسکول
الکتاب اور دیگر ادارے — جہاں یتیم لڑکی پہلی بار یونیفارم پہن کر آئینہ میں خود کو دیکھ کر مسکراتی ہے۔ جہاں مزدور کا بیٹا پہلی بار کتاب ہاتھ میں لے کر کہتا ہے: میں ڈاکٹر بنوں گا۔ مفت پڑھائی، کھانا، کتابیں — سب کچھ وقار کے ساتھ۔
بنیادی سہولیات
وہی پانی، بجلی اور محفوظ عمارت جن کی روزنامہ دنیا میں شکایت ہے — ہم اپنے 21 اسکولوں میں دے رہے ہیں۔ صفائی، صحت، محفوظ واش روم — تاکہ بچہ سکول آ کر محسوس کرے: یہ میرا گھر ہے، یہاں مجھے عزت ملتی ہے۔
خاندان کی خودکفالی
راشن پیکٹ، ووکیشنل ٹریننگ، سلائی اور کڑھائی — ماؤں کو ہنر مند بناتے ہیں تاکہ بچہ سکول چھوڑ کر مزدوری نہ کرے۔ ایک ماں نے کہا: 'آج میں اپنے بچے کے لیے کپڑے خود سلتی ہوں — پہلے یہ خواب تھا، آج حقیقت ہے۔'
یتیم اور محروم بچے
جس بچے کے باپ نہیں، جس گھر میں دو وقت کی روٹی مشکل — وہ ہمارے خاص بچے ہیں۔ ہم ان کا خرچ، تعلیم، کپڑے اور کردار سازی اپنے ذمے لیتے ہیں۔ کوئی بچہ اپنے حالات کی وجہ سے پیچھے نہیں رہتا۔
الکتاب مسجد و کردار سازی
تعلیم کے ساتھ اخلاق، نماز، اخوت اور معاشرتی ذمہ داری — تاکہ بچہ صرف پڑھا ہوا نہ ہو، اچھا انسان بنے۔ یہ وہ روح ہے جو ہر اسکول میں بچوں کے دلوں میں بوتے ہیں۔
روزنامہ دنیا نے پوچھا: تعلیمی بجٹ کہاں خرچ ہو رہا ہے؟ ہمارا حل آنسووں، محنت اور محبت سے لکھا گیا ہے — 13 سرکاری اسکول جنہیں ہم نے زندہ کیا، 8 اپنے ادارے جہاں ہزاروں بچے آج پڑھ رہے ہیں۔ رانا ٹاؤن اور یونین کونسل 23 میں جب بیل بجتی ہے — وہ صرف کلاس نہیں کھلتی، ایک مایوس دل میں امید پیدا ہوتی ہے۔ یہی میاں اخلاق الرحمن اور ہیلپ لائن ویلفیئر ٹرسٹ کا مشن ہے: جہاں ریاست کمزور پڑے، ہم وہاں کھڑے ہوں — بچوں، ماؤں اور محروم گھرانوں کے ساتھ، ہمیشہ۔